ابنا: محمد خزاعی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ہتھیاروں کی تجارت کانفرنس میں کہا کہ ایران کی طرف سے ہتھیاروں کی تجارت کے مسودے کے نقائص دور کرنے کی کوششوں کے باوجود اس مسودے میں ایسے نکات موجود ہیں جنہیں امتیازی روش پر شامل کیا گيا ہے اسی وجہ سے ایران اس مسودے کا مخالف ہے۔ محمد خزاعی نے ہتھیاروں کی تجارت کے بار ے میں منعقدہ کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری مواقف کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس کانفرنس میں روایتی ہتھیاروں کی غیر قانونی تجارت کا سد باب کرنے کی غرض سے کوشش کی تھی کہ ایک موثر، متوازن اور ہمہ گير معاہدہ تیار ہوجائے جس میں کسی طرح کا تعصب نہ ہو۔ اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے کہا کہ اقوام متحدہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ جارحیت کا مقابلہ کرے لیکن اس مسودے میں بہت سے ملکوں کی اس درخواست کو نظر انداز کردیا گيا ہے کہ جارحانہ عزائم کے حامل حلقوں کو ہتھیاروں کی فروخت ممنوع قراردی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسودے میں بڑے ملکوں کو جو کہ ہتھیار برآمد کرتے ہیں تمام حقوق عطاکردئیے گئے ہیں جب کہ ہتھیار درآمد کرنے والے ملکوں کو اپنی سکیورٹی قائم کرنے کا حق نہيں دیا گيا ہے۔ محمد خزاعی نے کہا کہ ہتھیاروں کی تجارت کے معاہدے کا ایک ھدف دنیا میں ہتھیاروں کی منڈیوں میں توازن لانا ہے لیکن اس معاہدے میں ایسے ملکوں کو ہتھیاروں کی خریدو فروخت سے مستثنی قراردے دیا گيا ہے جن کی فوجیں بیرون ملک بالخصوص مشرق وسطی اور خلیج فارس میں تعینات ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے اس طرح لاکھوں انسانوں کے قتل عام کی راہ ہموار کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242